करे क्या साज़-ए-बीनिश वो शहीद-ए-दर्द-आगाही
जिसे मू-ए-दिमाग़-ए-बे-ख़ुदी ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा हो
“What can perception's instrument achieve for that martyr of awareness' sting,When even the brain's fine hair in trance, Zulekha's dream does bring?”
— مرزا غالب
معنی
وہ شہیدِ دردِ آگاہی کے لیے آلۂ بینش کیا کر سکتا ہے، جب اس کے بے خودی کے عالم میں دماغ کا ایک بال بھی خوابِ زلیخا جیسا گہرا تجربہ لے آتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گہرے جذب ہونے والے شخص کے لیے بیرونی ادراک بے معنی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
