غزل
گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا
گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا
یہ غزل جدائی کے بے پناہ غم کو دل کو چھو لینے والے انداز میں بیان کرتی ہے، جس کی شدت چاند کو داغدار کر سکتی ہے یا چاندنی کو تباہ کن سیلاب میں بدل سکتی ہے۔ یہ محبت کی پیچیدہ الجھنوں کو بھی دکھاتی ہے، جہاں ایک عاشق کو اپنے معصوم عمل سے بدگمانی پیدا کرنے کا خوف رہتا ہے اور دل کو اٹوٹ وفا کے بجائے آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गर न अंदोह-ए-शब-ए-फ़ुर्क़त बयाँ हो जाएगा
बे-तकल्लुफ़ दाग़-ए-मह मोहर-ए-दहाँ हो जाएगा
اگر شبِ فرقت کا غم بیان نہیں کیا جائے گا، تو بے تکلف چاند کا داغ میرے منہ کی مہر بن جائے گا۔
2
ज़ोहरा गर ऐसा ही शाम-ए-हिज्र में होता है आब
परतव-ए-महताब सैल-ए-ख़ानुमाँ हो जाएगा
اگر ہجر کی رات میں آنسو اسی طرح بہتے رہے، تو ماہتاب کا پرتو گھر برباد کرنے والا سیلاب بن جائے گا۔
3
ले तो लूँ सोते में उस के पाँव का बोसा मगर
ऐसी बातों से वो काफ़िर बद-गुमाँ हो जाएगा
میں سوتے میں اُس کے پاؤں کا بوسہ لے تو لوں، لیکن ایسی حرکتوں سے وہ کافر (محبوب) بدگمان ہو جائے گا۔
4
दिल को हम सर्फ-ए-वफ़ा समझे थे क्या मा'लूम था
या'नी ये पहले ही नज़्र-ए-इम्तिहाँ हो जाएगा
ہم اس دل کو وفا کے لیے سمجھتے تھے، ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ تو پہلے ہی کسی امتحان کی نذر ہو جائے گا۔
5
सब के दिल में है जगह तेरी जो तू राज़ी हुआ
मुझ पे गोया इक ज़माना मेहरबाँ हो जाएगा
اگر تو راضی ہو جائے تو ہر دل میں تیری جگہ ہے، اور یوں لگے گا جیسے سارا زمانہ مجھ پر مہربان ہو جائے گا۔
6
गर निगाह-ए-गर्म फ़रमाती रही तालीम-ए-ज़ब्त
शो'ला ख़स में जैसे ख़ूँ रग में निहाँ हो जाएगा
اگر گرم نگاہ ضبط کی تعلیم دیتی رہے گی، تو شعلہ گھاس میں ایسے چھپ جائے گا جیسے خون رگ میں چھپا ہوتا ہے۔
7
बाग़ में मुझ को न ले जा वर्ना मेरे हाल पर
हर गुल-ए-तर एक चश्म-ए-ख़ूँ-फ़िशाँ हो जाएगा
مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میری حالت دیکھ کر ہر تازہ پھول خون بہانے والی آنکھ بن جائے گا۔
8
वाए! गर मेरा तिरा इंसाफ़ महशर में न हो
अब तलक तो ये तवक़्क़ो' है कि वाँ हो जाएगा
ہائے! اگر میرا اور تمہارا انصاف محشر کے دن بھی نہ ہو تو کیا ہو گا؟ اب تک تو یہ توقع ہے کہ وہاں انصاف ہو جائے گا۔
9
फ़ाएदा क्या सोच आख़िर तू भी दाना है 'असद'
दोस्ती नादाँ की है जी का ज़ियाँ हो जाएगा
اے اسد، اتنا سوچنے کا کیا فائدہ، تم بھی تو آخر دانا ہو۔ نادان کی دوستی سے تو جان کا نقصان ہی ہو گا۔
10
गर वो मस्त-ए-नाज़ देवेगा सला-ए-'अर्ज़-ए-हाल
ख़ार-ए-गुल बहर-ए-दहान-ए-गुल ज़बाँ हो जाएगा
اگر وہ مستِ ناز (محبوب) حال بیان کرنے کی دعوت دے گا، تو گلاب کا کانٹا گلاب کے دہان کے لیے زبان بن جائے گا۔
11
गर शहादत आरज़ू है नश्शे में गुस्ताख़ हो
बाल शीशे का रग-ए-संग-ए-फ़साँ हो जाएगा
اگر شہادت کی آرزو ہے تو اپنے جوش میں بے باک ہو جاؤ۔ شیشے کا ایک بال بھی سنگِ فساں کی رگ بن جائے گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
