बाग़ में मुझ को न ले जा वर्ना मेरे हाल पर
हर गुल-ए-तर एक चश्म-ए-ख़ूँ-फ़िशाँ हो जाएगा
“Don't take me to the garden, else my woeful state will turn each fresh blossom to an eye that bleeds.”
— مرزا غالب
معنی
مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میری حالت دیکھ کر ہر تازہ پھول خون بہانے والی آنکھ بن جائے گا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
