Sukhan AI
غزل

غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں

غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: का

یہ غزل انسانی غرور اور دنیاوی لذتوں کی عارضی اور فریب خوردہ نوعیت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ حقیقی حسن اور نظم فطرت میں قدرتی طور پر موجود ہیں۔ شاعر الٰہی رحمت پر بھی بات کرتا ہے، یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ شرمندگی کی وجہ سے ادا نہ کی گئی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے، اور کسی اعلیٰ مقصد کے لیے تکلیف کو قبول کرنے میں گہرا سرور ظاہر کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ग़ाफ़िल ब-वहम-ए-नाज़ ख़ुद-आरा है वर्ना याँ बे-शाना-ए-सबा नहीं तुर्रा गयाह का
غافل اپنے ناز کے وہم میں خود کو سنوارتا ہے، ورنہ یہاں گھاس کی لٹ بھی بادِ صبا کی کنگھی کے بغیر درست نہیں ہوتی۔
2
बज़्म-ए-क़दह से ऐश-ए-तमन्ना रख कि रंग सैद-ए-ज़े-दाम-ए-जस्ता है उस दाम-गाह का
بزمِ قدح سے اپنی تمناؤں کی لذت مت چاہو، کیونکہ اُس دام گاہ (جال کی جگہ) کا حسن ایسا شکار ہے جو جال سے نکل بھاگا ہے۔
3
रहमत अगर क़ुबूल करे क्या बईद है शर्मिंदगी से उज़्र करना गुनाह का
اگر رحمت قبول کر لے تو کیا بعید ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ کے لیے شرمندگی کی وجہ سے کوئی عذر پیش نہ کرے۔
4
मक़्तल को किस नशात से जाता हूँ मैं कि है पुर-गुल ख़याल-ए-ज़ख्म से दामन निगाह का
میں مقتل کو کس خوشی سے جاتا ہوں، کہ زخموں کے خیال سے میری نگاہ کا دامن پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔
5
जाँ दर-हवा-ए-यक-निगह-ए-गर्म है 'असद' परवाना है वकील तिरे दाद-ख़्वाह का
اسدؔ، میری جان ایک گرم نگاہ کی خواہش مند ہے۔ تمہارے فریادی کا وکیل پروانہ ہے۔
6
ताऊस-ए-दर-रिकाब है हर ज़र्रा आह का या-रब नफ़स ग़ुबार है किस जल्वा-गाह का
آہ کا ہر ذرہ رکاب میں مور کی مانند ہے۔ یا رب، یہ سانس، جو محض گرد ہے، کس شاندار جلوہ گاہ کا حصہ ہے؟
7
उज़्लत-गुज़ीन-ए-बज़्म हैं वामांदागान-ए-दीद मीना-ए-मय है आबला पा-ए-निगाह का
جن کی نگاہ تھک چکی ہے وہ محفل سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ شراب کا پیالہ نگاہ کے تھکے ہوئے پاؤں کا چھالا ہے۔
8
हर गाम आबले से है दिल दर-तह-ए-क़दम क्या बीम अहल-ए-दर्द को सख़्ती-ए-राह का
ہر قدم پر میرا دل میرے پاؤں کے نیچے ایک آبلے کی طرح ہے۔ درد کے عادی لوگوں کو راستے کی مشکلات کا کیا ڈر ہے؟
9
जेब-ए-नियाज़-ए-इश्क़ निशाँ-दार-ए-नाज़ है आईना हूँ शिकस्तन-ए-तर्फ़-ए-कुलाह का
عشق کی عاجزی کا دامن غرور کا نشان لیے ہوئے ہے۔ میں ٹوپی کے غرور بھرے جھکاؤ کو توڑنے والا ایک آئینہ ہوں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.