غزل

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: आगे

یہ غزل عشق، موت اور تقدیر کے روبرو عاشق کے غیر معمولی ولولے اور خودداری کی عکاسی کرتی ہے۔ غالب نے جلاد کے آگے بڑھنے کی وارفتگی اور محبت میں فنا ہونے کے جذبے کو ایک پُرجوش فتح اور فخر کے طور پر پیش کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अजब नशात से जल्लाद के चले हैं हम आगे कि अपने साए से सर पाँव से है दो क़दम आगे
عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے کہ اپنے سائے سے سر پانو سے ہے دو قدم آگے
ہم جلاد کے آگے ایسی انوکھی خوشی کے ساتھ چلے ہیں کہ ہمارا سر ہمارے سائے اور قدموں سے بھی دو قدم آگے ہے۔
2
क़ज़ा ने था मुझे चाहा ख़राब-ए-बादा-ए-उल्फ़त फ़क़त ख़राब लिखा बस न चल सका क़लम आगे
قضا نے تھا مجھے چاہا خراب بادۂ الفت فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
تقدیر نے مجھے محبت کی شراب سے خراب لکھنا چاہا تھا، لیکن اس نے صرف "خراب" لکھا اور قلم اس سے آگے نہ چل سکا۔
3
ग़म-ए-ज़माना ने झाड़ी नशात-ए-इश्क़ की मस्ती वगरना हम भी उठाते थे अज़्ज़त-ए-अलम आगे
غم زمانہ نے جھاڑی نشاط عشق کی مستی وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
دنیاوی غموں نے عشق کی مستی اور خوشی کو ختم کر دیا ہے، ورنہ پہلے ہم بھی عشق کے درد و الم کا لطف اٹھایا کرتے تھے۔
4
ख़ुदा के वास्ते दाद उस जुनून-ए-शौक़ की देना कि उस के दर पे पहुँचते हैं नामा-बर से हम आगे
خدا کے واسطے داد اس جنون شوق کی دینا کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
خدا کے لیے میرے اس جنونِ شوق کی داد دینا کہ ہم محبوب کی چوکھٹ پر نامہ بر (قاصد) سے بھی پہلے پہنچ جاتے ہیں۔
5
ये उम्र भर जो परेशानियाँ उठाई हैं हम ने तुम्हारे अइयो ऐ तुर्रह-हा-ए-ख़म-ब-ख़म आगे
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے تمہارے آئیو اے طرہ ہاۓ خم بہ خم آگے
اے بل کھاتی اور الجھی ہوئی زلفو! ہم نے عمر بھر جو پریشانیاں اور مصیبتیں جھیلی ہیں، وہ سب تمہارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔
6
दिल ओ जिगर में पुर-अफ़्शा जो एक मौजा-ए-ख़ूँ है हम अपने ज़ोम में समझे हुए थे उस को दम आगे
دل و جگر میں پرافشاں جو ایک موجۂ خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
دل اور جگر میں خون کی جو ایک لہر پر پھڑپھڑا رہی ہے، ہم پہلے اپنے غرور یا غلط گمان میں اسی کو زندگی کی سانس سمجھے ہوئے تھے۔
7
क़सम जनाज़े पे आने की मेरे खाते हैं 'ग़ालिब' हमेशा खाते थे जो मेरी जान की क़सम आगे
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
اے غالب، جو لوگ پہلے ہمیشہ میری زندگی کی قسم کھایا کرتے تھے، اب وہ میرے جنازے میں شریک ہونے کی قسم کھا رہے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے | Sukhan AI