“Fate had intended to write me ruined by the wine of love, / But wrote only 'ruined'—the pen could go no further.”
تقدیر نے مجھے محبت کی شراب سے خراب لکھنا چاہا تھا، لیکن اس نے صرف "خراب" لکھا اور قلم اس سے آگے نہ چل سکا۔
شاعر یہاں اپنی قسمت کے المیے کو بڑے لطیف اور درد بھرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ تقدیر کا ارادہ تو یہ تھا کہ اسے عشق کی شراب سے سرشار کر کے برباد کرے، جس بربادی میں بھی ایک نشہ اور حسن ہوتا ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ قلم صرف لفظ 'خراب' لکھ کر ہی رک گیا، اور عاشق محبت کی باوقار بربادی سے بھی محروم رہ کر صرف بے بس تباہی کا شکار ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
