“The sorrows of the world have purged the drunken bliss of love; / Else we too once were wont to taste the ecstasy of grief.”
دنیاوی غموں نے عشق کی مستی اور خوشی کو ختم کر دیا ہے، ورنہ پہلے ہم بھی عشق کے درد و الم کا لطف اٹھایا کرتے تھے۔
شاعر یہاں زمانے کے تلخ حقائق اور روزمرہ کی الجھنوں کا ماتم کر رہے ہیں، جنہوں نے عشق کی سرمستی اور وارفتگی کو جھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک دور وہ بھی تھا جب محبت کا زخم اور ہجر کی تکلیف بھی ایک انوکھا لطف دیتی تھی اور عاشق اس درد کو دل سے لگاتا تھا۔ مگر دنیا کی تلخیوں نے دل کو اتنا بوجھل کر دیا ہے کہ اب اس میٹھے اور پاکیزہ غم کو محسوس کرنے کی فرصت اور سکت بھی نہیں رہی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
