“All the distress and disarray we suffered all our life has laid itself before your coiling, tangled tresses.”
اے بل کھاتی اور الجھی ہوئی زلفو! ہم نے عمر بھر جو پریشانیاں اور مصیبتیں جھیلی ہیں، وہ سب تمہارے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔
اس شعر کا سارا حسن لفظ 'پریشانی' کی رعایت میں چھپا ہے، جس کا مطلب دل کا اضطراب بھی ہے اور بکھرے ہوئے بال بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی بھر ہم نے جتنی بھی بے چینیاں اور الجھنیں سہی ہیں، وہ سب محبوب کی بل کھاتی اور پیچ در پیچ زلفوں کے حسن پر نچھاور ہونے کے لیے چلی آئی ہیں۔ یعنی دنیا بھر کے غم اور الجھاؤ محبوب کی زلفِ گرہ گیر کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
