قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے

“Now they swear an oath to attend my funeral, O Ghalib / Those who once would always swear upon my very life.”

— مرزا غالب
معنی

اے غالب، جو لوگ پہلے ہمیشہ میری زندگی کی قسم کھایا کرتے تھے، اب وہ میرے جنازے میں شریک ہونے کی قسم کھا رہے ہیں۔

تشریح

غالبؔ نے اس شعر میں ’قسم کھانے‘ کے محاورے سے ایک لاجواب اور تلخ طنز پیدا کیا ہے۔ وہ محبوب جو کبھی اپنی ہر بات منوانے کے لیے شاعر کی زندگی اور جان کی قسمیں کھایا کرتا تھا، اب اسی کے مرنے اور جنازے میں آنے کی قسم کھا رہا ہے۔ اس میں ایک گہرا ملال بھی ہے اور ایک دھیمی سی طنزیہ مسکراہٹ بھی، جو محبت کے بدلتے ہوئے تیوروں کو خوبصورتی سے بے نقاب کرتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.