“That wave of blood fluttering its wings within the heart and soul—in our proud illusion, we once mistook it for the breath of life.”
دل اور جگر میں خون کی جو ایک لہر پر پھڑپھڑا رہی ہے، ہم پہلے اپنے غرور یا غلط گمان میں اسی کو زندگی کی سانس سمجھے ہوئے تھے۔
شاعر کہتے ہیں کہ دل اور جگر میں پر پھڑپھڑاتی ہوئی جو ایک بے تاب لہر تھی، ہم اپنے وہم اور گھمنڈ میں اسے زندگی کی سانس سمجھ بیٹھے تھے۔ حقیقت کھلی تو معلوم ہوا کہ جسے ہم جینے کی رمق سمجھ رہے تھے، وہ دراصل اندر ہی اندر خون کا بہاؤ اور رستا ہوا زخم تھا۔ یہ شعر کمال خوبصورتی سے دکھاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنے شدید دکھ اور اندرونی کرب کو بھی زندگی کی حرارت سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
