غزل

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: नहीं है

یہ غزل محبوب کی فرقت میں بے پناہ بے قراری اور انتظار کے جان لیوا کرب کو بیان کرتی ہے۔ اس میں شاعر نے اپنے دل کی اضطرابی کیفیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کی کشمکش اور وجودی مسائل پر بھی گہرے فلسفیانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
आ कि मिरी जान को क़रार नहीं है ताक़त-ए-बेदाद-ए-इंतिज़ार नहीं है
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
چلے آؤ کہ میری جان کو سکون نہیں ہے، اور اب مجھ میں انتظار کا ظلم سہنے کی طاقت نہیں رہی۔
2
देते हैं जन्नत हयात-ए-दहर के बदले नश्शा ब-अंदाज़ा-ए-ख़ुमार नहीं है
دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
وہ دنیا کی زندگی کے بدلے جنت دیتے ہیں، لیکن ملنے والا نشہ اس کے خمار اور تکلیف کے برابر نہیں ہے۔
3
गिर्या निकाले है तेरी बज़्म से मुझ को हाए कि रोने पे इख़्तियार नहीं है
گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
میرا رونا مجھے تمہاری محفل سے نکال رہا ہے، اور افسوس کہ اپنے رونے پر میرا کوئی بس نہیں ہے۔
4
हम से अबस है गुमान-ए-रंजिश-ए-ख़ातिर ख़ाक में उश्शाक़ की ग़ुबार नहीं है
ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
ہم سے دل میں رنجش کا گمان رکھنا بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ عاشقوں کی خاک میں کوئی غبار یا کدورت باقی نہیں رہتی۔
5
दिल से उठा लुत्फ़-ए-जल्वा-हा-ए-मआनी ग़ैर-ए-गुल आईना-ए-बहार नहीं है
دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
دل سے باطنی معانی کے جلووں کا لطف ختم ہو چکا ہے، اور اب پھول کے سوا بہار کا کوئی اور آئینہ باقی نہیں رہا۔
6
क़त्ल का मेरे किया है अहद तो बारे वाए अगर अहद उस्तुवार नहीं है
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
آخرکار اس نے مجھے قتل کرنے کا عہد تو کر لیا ہے، لیکن ہائے افسوس اگر یہ وعدہ پختہ اور قائم نہ رہا۔
7
तू ने क़सम मय-कशी की खाई है 'ग़ालिब' तेरी क़सम का कुछ ए'तिबार नहीं है
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
اے غالب، تم نے شراب نوشی چھوڑنے کی قسم تو کھائی ہے، مگر تمہاری اس قسم پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے | Sukhan AI