“My weeping casts me out from your gathering; alas, that over my tears I hold no sway.”
میرا رونا مجھے تمہاری محفل سے نکال رہا ہے، اور افسوس کہ اپنے رونے پر میرا کوئی بس نہیں ہے۔
اس شعر میں محبوب کی بزم میں عاشق کی بے بسی اور لاچاری کی بڑی پُراثر تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بس خاموشی سے محبوب کے پاس بیٹھا رہے، مگر دل کا درد آنسو بن کر چھلک پڑتا ہے اور محفل کے آداب کی خلاف ورزی بن جاتا ہے۔ اصل المیہ بزم سے نکالا جانا نہیں ہے، بلکہ ہائے کا یہ دکھ ہے کہ انسان کا اپنے ہی دل، اپنے ہی درد اور اپنے ہی رونے پر کوئی قابو باقی نہیں رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
