“In vain do you suspect a grievance in my heart; in the dust of lovers, not a speck of rancor remains.”
ہم سے دل میں رنجش کا گمان رکھنا بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ عاشقوں کی خاک میں کوئی غبار یا کدورت باقی نہیں رہتی۔
شاعر اپنے محبوب سے کہہ رہا ہے کہ یہ گمان کرنا بالکل فضول ہے کہ ہمارے دل میں کوئی ناراضگی یا رنجش باقی ہے۔ عشق کی آگ میں جل کر عاشق چاہے خاک ہو جائے، مگر اس کی خاک اتنی پاکیزہ ہوتی ہے کہ اس میں کینے یا شکوے کا کوئی غبار نہیں پایا جاتا۔ یہاں لفظ 'خاک' اور 'غبار' کی رعایت سے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ سچی محبت میں محبوب کے ہر ستم پر صرف سر تسلیمِ خم ہوتا ہے، کوئی ملال نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
