“At last the vow to slay me has been made; alas for me, if that promise does not hold firm!”
آخرکار اس نے مجھے قتل کرنے کا عہد تو کر لیا ہے، لیکن ہائے افسوس اگر یہ وعدہ پختہ اور قائم نہ رہا۔
اس شعر میں محبت کا ایک پُردَرد مگر دلکش تضاد سمویا ہوا ہے۔ عاشق اس بات پر مطمئن اور خوش ہے کہ محبوب نے بالآخر اس کی طرف التفات تو کیا، چاہے وہ اس کی جان لینے کا وعدہ ہی کیوں نہ ہو۔ کلاسیکی غزل میں معشوق کے ہاتھوں قتل ہونا ہجر کے عذاب سے نجات اور عشق کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ اب عاشق کا اصل خوف موت کا نہیں، بلکہ محبوب کی وعدہ خلافی کا ہے کہ کہیں وہ اس حسین عہد کو بھی نہ توڑ دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
