“Gone from the heart is the delight of meaning's manifestations; nothing save the rose remains a mirror to the spring.”
دل سے باطنی معانی کے جلووں کا لطف ختم ہو چکا ہے، اور اب پھول کے سوا بہار کا کوئی اور آئینہ باقی نہیں رہا۔
غالب یہاں دل کی اس کیفیت کا نوحہ کر رہے ہیں جہاں کائنات کے باطنی اور گہرے معانی کو محسوس کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔ کبھی دل بہار کے ہر جلوے میں حقیقت اور بصیرت کے لاجواب جہاں دریافت کرتا تھا، مگر اب وہ لطف دل سے رخصت ہو چکا ہے۔ اب بہار کی وسعتیں اور معرفت محض ایک ظاہری پھول تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، یعنی روح کی آنکھ بند ہو چکی ہے اور فقط مادی حسن باقی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
