“You have sworn an oath to renounce wine, O Ghalib; yet no faith can ever be placed in your vow.”
اے غالب، تم نے شراب نوشی چھوڑنے کی قسم تو کھائی ہے، مگر تمہاری اس قسم پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
اس شعر میں غالبؔ بڑے شوخ اور دل نشیں انداز میں خود اپنی ہی ذات پر چوٹ کر رہے ہیں۔ وہ مسکرا کر اعتراف کرتے ہیں کہ مے نوشی چھوڑنے کا عہد تو کر لیا ہے، مگر اس قسم پر نہ دنیا کو اعتبار ہے اور نہ خود ان کے اپنے دل کو۔ یہ انسانی کمزوری کا ایک نہایت خوبصورت اور سچا بیان ہے، جہاں پختہ وعدے بھی پرانی عادتوں اور محبت کے آگے دم توڑ دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
