“Come, for my soul finds no peace; I have no strength left to endure the tyranny of waiting.”
چلے آؤ کہ میری جان کو سکون نہیں ہے، اور اب مجھ میں انتظار کا ظلم سہنے کی طاقت نہیں رہی۔
شاعر اپنے محبوب کو انتہائی بے قراری اور بے بسی کے عالم میں پکار رہا ہے کہ اب روح میں صبر و سکون کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔ یہاں انتظار کو محض ایک وقت کا فاصلہ نہیں بلکہ 'بیداد' یعنی سراسر ظلم قرار دیا گیا ہے، جس کی اذیت سہنے کی اب مطلق سکت نہیں ہے۔ یہ شعر ہجر کی اس انتہا کی عکاسی کرتا ہے جہاں محبوب کی آمد ہی تڑپتے دل کے لیے زندگی کی واحد امید بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
