“They offer Paradise in exchange for this mortal life; yet the wine's intoxication is scarcely equal to the hangover endured.”
وہ دنیا کی زندگی کے بدلے جنت دیتے ہیں، لیکن ملنے والا نشہ اس کے خمار اور تکلیف کے برابر نہیں ہے۔
غالب اس شعر میں زندگی کی تلخیوں اور جنت کے انعام کے درمیان ایک دلکش موازنہ پیش کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے دکھ درد اور امتحانات کو ایک طویل اور جان لیوا خمار قرار دیتے ہیں، جبکہ جنت کو وہ نشہ بتاتے ہیں جس کی خاطر یہ خمار برداشت کیا گیا۔ ان کا شوخ انداز میں شکوہ یہ ہے کہ سودا برابر کا نہیں، کیونکہ انسان نے جتنے مصائب جھیلے ہیں، ان کے تناسب سے جزا کا نشہ بہت ہلکا معلوم ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
