غزل
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
یہ غزل محبوب کی بے رخی اور غرور کے مقابلے میں عاشق کے عجز و نیاز اور دلی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر شکوہ کناں ہے کہ ناز و ادا میں مبتلا حسن والے محبت کے سوز و گداز اور سپردگی کی اصل لذت سے بالکل ناواقف ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
साज़ ये कीना-साज़ क्या जानें
नाज़ वाले नियाज़ क्या जानें
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
کینہ اور بغض رکھنے والے لوگ ساز و ہم آہنگی کو کیا سمجھیں، اور ناز و غرور کرنے والے عاجزی اور نیازمندی کو کیا جانیں۔
2
शम्अ'-रू आप गो हुए लेकिन
लुत्फ़-ए-सोज़-ओ-गुदाज़ क्या जानें
شمع رو آپ گو ہوئے لیکن
لطف سوز و گداز کیا جانیں
اگرچہ آپ کا چہرہ شمع جیسا روشن ہے، لیکن آپ جلنے اور پگھلنے کا لطف کیا جانیں۔
3
कब किसी दर की जब्हा-साई की
शैख़ साहब नमाज़ क्या जानें
کب کسی در کی جبہہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
شیخ صاحب نے کبھی کسی کی چوکھٹ پر ماتھا نہیں رگڑا، وہ بھلا نماز کی حقیقت کیا جانیں۔
4
जो रह-ए-इश्क़ में क़दम रक्खें
वो नशेब-ओ-फ़राज़ क्या जानें
جو رہ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
جو لوگ عشق کے راستے پر قدم رکھتے ہیں، وہ اس کے نشیب و فراز یا اتار چڑھاؤ کی پروا نہیں کرتے۔
5
पूछिए मय-कशों से लुत्फ़-ए-शराब
ये मज़ा पाक-बाज़ क्या जानें
پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب
یہ مزا پاکباز کیا جانیں
شراب کا اصل لطف پینے والوں سے پوچھئے، یہ مزہ پرہیزگار اور پارسا لوگ کیا جانیں۔
6
बले चितवन तिरी ग़ज़ब री निगाह
क्या करेंगे ये नाज़ क्या जानें
بلے چتون تری غضب ری نگاہ
کیا کریں گے یہ ناز کیا جانیں
تمہاری ترچھی چتون نہایت دلکش ہے اور نگاہ قیامت خیز ہے؛ بھلا کون جانے کہ تمہارے یہ ناز و انداز کیا آفت لائیں گے۔
7
जिन को अपनी ख़बर नहीं अब तक
वो मिरे दिल का राज़ क्या जानें
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
جنہیں اب تک خود اپنی ہی خبر نہیں ہے، وہ میرے دل کا راز کیا جان سکیں گے۔
8
हज़रत-ए-ख़िज़्र जब शहीद न हों
लुत्फ़-ए-उम्र-ए-दराज़ क्या जानें
حضرت خضر جب شہید نہ ہوں
لطف عمر دراز کیا جانیں
جب حضرت خضر خود کبھی شہید ہی نہیں ہوئے، تو وہ لمبی عمر کا اصل لطف کیا جانیں؟
9
जो गुज़रते हैं 'दाग़' पर सदमे
आप बंदा-नवाज़ क्या जानें
جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
داغ پر رنج و غم کے جو صدمے گزرتے ہیں، آپ جیسے مہربان اور قدردان کو ان کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
