پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب — داغ دہلوی

پوچھئے مے کشوں سے لطف شراب یہ مزا پاکباز کیا جانیں

“Ask the wine-drinkers of the true joy of wine; what could the pious ever know of such delight?”

— داغ دہلوی

معنی

شراب کا اصل لطف پینے والوں سے پوچھئے، یہ مزہ پرہیزگار اور پارسا لوگ کیا جانیں۔

تشریح

اردو شاعری میں مے یا شراب محض کوئی نشہ آور چیز نہیں، بلکہ یہ عشقِ حقیقی، جذبے کی شدت اور روحانی بے خودی کا استعارہ ہے۔ شاعر بڑی بے باکی سے کہتا ہے کہ خود سپردگی اور جنون کا اصل لطف صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس راہ میں دل ہار چکے ہوں، نہ کہ وہ ظاہر پرست پارسا جو کنارے پر کھڑے ہو کر فیصلے سناتے ہیں۔ سچی محبت کا مزا اصولوں اور فتووں میں نہیں، بلکہ اس میں ڈوب کر خود کو مٹا دینے میں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.