جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے — داغ دہلوی
“The grief and blows that Dāgh must endure, / How could you, my gracious benefactor, ever know?”
معنی
داغ پر رنج و غم کے جو صدمے گزرتے ہیں، آپ جیسے مہربان اور قدردان کو ان کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔
تشریح
داغؔ اس شعر میں محبوب کو بظاہر بڑی شائستگی سے ’بندہ نواز‘ کہہ کر پکارتے ہیں، مگر اس عزت و احترام کے پردے میں ایک گہرا اور تیکھا شکوہ چھپا ہے۔ محبوب اپنی بے نیازی اور ناز و نعم کی دنیا میں مگن ہے، بھلا اسے اس دلِ مضطر پر گزرنے والے صدمات کی تپش کا کیا احساس ہو سکتا ہے۔ یہ شعر طنزِ لطیف اور عاشقانہ سادگی کا ایسا خوبصورت نمونہ ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
