کب کسی در کی جبہہ سائی کی — داغ دہلوی

کب کسی در کی جبہہ سائی کی شیخ صاحب نماز کیا جانیں

“When has he ever bowed his brow upon a beloved's threshold? What could the pious Sheikh truly know of prayer?”

— داغ دہلوی

معنی

شیخ صاحب نے کبھی کسی کی چوکھٹ پر ماتھا نہیں رگڑا، وہ بھلا نماز کی حقیقت کیا جانیں۔

تشریح

اس شعر میں روایتی شیخ صاحب کے رسمی زہد پر ایک شوخ اور گہری چوٹ کی گئی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ نماز محض ماتھا ٹیکنے کی رسم نہیں، بلکہ عشق میں اپنی انا کو فنا کر کے کسی کی چوکھٹ پر مکمل سپردگی کا نام ہے۔ چونکہ شیخ صاحب نے کبھی محبت کے درد اور تسلیم کی کیفیت کو جانا ہی نہیں، اس لیے وہ بھلا سچی بندگی اور نماز کی روح کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.