غزل

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

بات میری کبھی سنی ہی نہیں
داغ دہلوی· Ghazal· 9 shers· radif: ही नहीं

اس غزل میں شاعر نے محبوب کی مسلسل بے رخی اور اپنی فریادوں کو نظر انداز کیے جانے کے الم کو بیان کیا ہے۔ اس میں یہ دکھ واضح ہے کہ محبوب کی دل لگی محض ہنسی مذاق نہیں بلکہ دل کو گہرا صدمہ اور رنج پہنچانے والی بے اعتنائی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बात मेरी कभी सुनी ही नहीं जानते वो बुरी भली ही नहीं
بات میری کبھی سنی ہی نہیں جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں
2
दिल-लगी उन की दिल-लगी ही नहीं रंज भी है फ़क़त हँसी ही नहीं
دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں
3
लुत्फ़-ए-मय तुझ से क्या कहूँ ज़ाहिद हाए कम-बख़्त तू ने पी ही नहीं
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
4
उड़ गई यूँ वफ़ा ज़माने से कभी गोया किसी में थी ही नहीं
اڑ گئی یوں وفا زمانے سے کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں
5
जान क्या दूँ कि जानता हूँ मैं तुम ने ये चीज़ ले के दी ही नहीं
جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں
6
हम तो दुश्मन को दोस्त कर लेते पर करें क्या तिरी ख़ुशी ही नहीं
ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں
7
हम तिरी आरज़ू पे जीते हैं ये नहीं है तो ज़िंदगी ही नहीं
ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں
8
दिल-लगी दिल-लगी नहीं नासेह तेरे दिल को अभी लगी ही नहीं
دل لگی دل لگی نہیں ناصح تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں
9
'दाग़' क्यूँ तुम को बेवफ़ा कहता वो शिकायत का आदमी ही नहीं
داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.