اڑ گئی یوں وفا زمانے سے کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

“Fidelity has vanished from the world in such a way, as though it never had existed in anyone at all.”

— داغ دہلوی
معنی

دنیا سے وفا اس طرح غائب ہو گئی ہے، گویا کبھی کسی انسان میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔

تشریح

شاعر اس شعر میں زمانے سے سچی محبت، خلوص اور وفا کے یکسر مٹ جانے کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ ’اڑ گئی‘ کے خوبصورت استعارے سے لگتا ہے جیسے وفا کوئی نازک پرندہ تھی جو بنا کوئی نشاں چھوڑے خاموشی سے رخصت ہو گئی۔ اس میں ایک گہرا دکھ پوشیدہ ہے کہ بے رخی اس حد تک عام ہو چکی ہے کہ اب دل کو یہ یقین ہی نہیں آتا کہ کبھی کسی انسان میں وفا کا شائبہ بھی موجود تھا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.