ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

“I would have turned even an enemy into a friend, / But what can I do, when it brings no joy to you?”

— داغ دہلوی
معنی

ہم تو دشمن کو بھی اپنا دوست بنا لیتے، مگر کیا کریں جب اس میں تمہاری خوشی ہی نہیں ہے۔

تشریح

یہ شعر محبوب کی خوشنودی اور عشق کے بے لوث جذبے کی بڑی دلنشین تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ خلوص اور محبت کے بل بوتے پر دشمن کو اپنا گرویدہ بنا لینا ہمارے لیے ذرا بھی مشکل نہ تھا، لیکن ہم نے فقط اس لیے ہاتھ روک لیا کیونکہ اس میں محبوب کی خوشی شامل نہیں تھی۔ یہاں اپنی صلح و آشتی کی خواہش کو بھی محبوب کی پسند پر نثار کر دینے کا گہرا احساس نمایاں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.