“This affair of the heart is no mere jest, O preacher; your own heart has never yet been struck by love.”
اے نصیحت کرنے والے، یہ عشق کوئی ہنسی مذاق یا کھیل نہیں ہے، بات اصل میں یہ ہے کہ تیرے دل کو ابھی تک محبت کی چوٹ لگی ہی نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر نے لفظ 'دل لگی' کا کمال کا حسن استعمال کیا ہے، جس سے ایک طرف مذاق اور تفریح مراد ہے اور دوسری طرف دل کو چوٹ یا عشق کا روگ لگنا۔ وہ نصیحت کرنے والے ناصح سے کہتے ہیں کہ تم عشق کو محض ہنسی کھیل سمجھتے ہو کیونکہ تم خود اس راستے سے نہیں گزرے۔ تمہارے لیے مشورہ دینا اس لیے آسان ہے کہ تمہارا دل اب تک محبت کے تیر یا درد سے بالکل بے خبر اور محفوظ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
