جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں
تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں
“Why should I surrender my life, when well I know: this is something you take and never return.”
— داغ دہلوی
معنی
میں تمہیں اپنی جان کیوں دوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم یہ چیز ایک بار لے کر کبھی واپس نہیں کرتے۔
تشریح
اس شعر میں محبوب کے تقاضے پر ایک دلکش طنز اور کاٹ دار شوخی جھلکتی ہے۔ شاعر نے ’جان‘ جیسی گراں قدر شے کو گویا ادھار لی گئی کوئی عام چیز بنا کر پیش کیا ہے، جسے محبوب لے تو لیتا ہے مگر کبھی پلٹاتا نہیں۔ اس مسکراہٹ کے پردے میں عشق کی ایک تلخ حقیقت بھی پنہاں ہے کہ جو ایک بار اپنا وجود لٹا دے، اسے وہ کبھی واپس نہیں ملتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
