“How can I describe to you, O ascetic, the sweet delight of wine? Alas, you wretched soul, you have never tasted it at all!”
اے زاہد، میں تجھ سے شراب کا لطف کیا بیان کروں؛ افسوس کہ اے بدقسمت، تو نے تو اسے کبھی پیا ہی نہیں۔
اس شعر میں شاعر نے رندانہ بے تکلفی سے زاہد کی خشک پارسائی پر ایک شوخ اور پیاری چوٹ کی ہے۔ وہ افسوس اور محبت بھرے شکوے کے ساتھ کہتا ہے کہ تجھے مے کے نشاط و سرور کی کیا خبر، تو تو اس نعمت کے پاس سے ہی محروم گزرا ہے۔ غزل کی علامت نگاری میں 'مے' محض شراب نہیں بلکہ عشق، جذب اور زندگی کے زندہ تجربے کا نام ہے—اور شاعر کا مدعا یہ ہے کہ جس نے خود محبت نہیں چکھی، وہ اس کے کیف و لطف کو بھلا کیسے سمجھ سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
