داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں

“Why would Dagh ever call you faithless? He is simply not a man given to complaint.”

— داغ دہلوی
معنی

داغ بھلا آپ کو بے وفا کیوں کہتا؟ وہ تو شکوہ شکایت کرنے والا انسان ہی نہیں ہے۔

تشریح

اس شعر میں داغؔ نے کمال کی نفاست اور شوخی کے ساتھ محبوب کی بے وفائی کا ذکر بھی کر دیا اور اپنی انا کو بھی برقرار رکھا۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ داغ شکوہ بھلا کیوں کرے گا، وہ تو شکایتوں کا آدمی ہی نہیں ہے۔ یہاں ایک طرف عاشق کی خودداری اور ضبط نظر آتا ہے تو دوسری طرف محبوب کو انتہائی معصومانہ پیرائے میں اس کا عکس دکھا دیا گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.