غزل

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: से दूर

یہ غزل منکسر المزاج لوگوں اور اہل کینہ کے درمیان فطری بعد کو زمین اور آسمان کے فاصلے کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ شمع و پروانہ کی تمثیل کے ذریعے شدید عشق کے اس والہانہ کھنچاؤ کی عکاسی کرتی ہے جس کے سامنے دل بالکل بے بس ہو جاتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
क्यूँकर न ख़ाकसार रहें अहल-ए-कीं से दूर देखो ज़मीं फ़लक से फ़लक है ज़मीं से दूर
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور
2
परवाना वस्ल-ए-शम्अ पे देता है अपनी जाँ क्यूँकर रहे दिल उस के रुख़-ए-आतिशीं से दूर
پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور
3
मज़मून-ए-वस्ल-व-हिज्र जो नामे में है रक़म है हर्फ़ भी कहीं से मिले और कहीं से दूर
مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور
4
गो तीर-ए-बे-गुमाँ है मिरे पास पर अभी जाए निकल के सीना-ए-चर्ख़-ए-बरीं से दूर
گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور
5
वो कौन है कि जाते नहीं आप जिस के पास लेकिन हमेशा भागते हो तुम हमीं से दूर
وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور
6
हैरान हूँ कि उस के मुक़ाबिल हो आईना जो पुर-ग़ुरूर खिंचता है माह-ए-मुबीं से दूर
حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور
7
याँ तक अदू का पास है उन को कि बज़्म में वो बैठते भी हैं तो मिरे हम-नशीं से दूर
یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور
8
मंज़ूर हो जो दीद तुझे दिल की आँख से पहुँचे तिरी नज़र निगह-ए-दूर-बीं से दूर
منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور
9
दुनिया-ए-दूँ की दे न मोहब्बत ख़ुदा 'ज़फ़र' इंसाँ को फेंक दे है ये ईमान ओ दीं से दूर
دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔ انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.