“Though in my grasp rests an arrow sure and true, yet today / May it pierce the breast of the highest sky and soar far, far away.”
اگرچہ میرے پاس ایک بے خطا تیر موجود ہے، مگر ابھی وہ بلند ترین آسمان کے سینے کو چیر کر بہت دور نکل جائے۔
اس شعر میں شاعر اپنے عزم یا دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی ایسی آہ کی بات کر رہا ہے جس کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا۔ مگر اس کا درد یا اس کی ہمت اتنی بلند ہے کہ وہ محض آسمان تک پہنچ کر رکنا نہیں چاہتا، بلکہ چاہتا ہے کہ یہ تیر چرخِ بریں کے سینے کو چیرتا ہوا تمام حدوں سے پار نکل جائے۔ یہ شعر انسان کے بلند ارادے، دلی تڑپ اور قسمت کی زنجیروں کو توڑ کر پرواز کرنے کے لاجواب جذبے کا مظہر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
