مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور

“The theme of union and parting inscribed within this letter: / Even the letters of the script are joined here, and there held apart.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

خط میں وصال اور جدائی کا مضمون لکھا گیا ہے، اسی لیے اس کے الفاظ کے حروف بھی کہیں آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور کہیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔

تشریح

کتنی نازک اور دلکش بات کہی ہے شاعر نے! اردو خطاطی کا یہ حسن ہے کہ کچھ حروف باہم جڑ جاتے ہیں اور کچھ الگ رہتے ہیں، مگر شاعر نے اسے اپنے دل کے حال کا آئینہ بنا دیا۔ چونکہ اس خط کا موضوع ملن اور جدائی دونوں ہے، اس لیے لگتا ہے جیسے خود حروف بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہیں—کہیں وصل کے سرور میں باہم گلے مل رہے ہیں اور کہیں ہجر کے درد میں ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ یعنی محبت کا درد صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ کاغذ پر پھیلی سیاہی کی بناوٹ میں بھی صاف نظر آتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.