“I marvel how the mirror dares confront that haughty grace, who in sheer pride turns far away even from the radiant moon.”
مجھے اس بات پر حیرانی ہے کہ آئینہ اس محبوب کے سامنے کیسے آتا ہے، جو اپنے بے پناہ غرور کی وجہ سے روشن چاند سے بھی دور کھنچا رہتا ہے۔
شاعر محبوب کے حسن اور اس کے بے پناہ غرور پر حیرت زدہ ہو کر داد دے رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جو محبوب چودھویں کے روشن چاند کو بھی خاطر میں نہ لائے اور تکبر سے اس سے دور کھنچا رہے، بھلا ایک بے جان آئینے کی یہ مجال کیسے ہوئی کہ وہ اس کے روبرو آ کھڑا ہو! اس شعر میں آئینے کی بے باکی اور محبوب کے ناز و نخرے کی خوب صورت تصویر کشی کی گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
