“Such regard do they hold for the rival that in the gathering, even if they take a seat, it is far from whoever sits beside me.”
انہیں رقیب کا اس قدر خیال ہے کہ محفل میں اگر وہ بیٹھتے بھی ہیں تو میرے پاس بیٹھنے والے شخص سے بھی دور بیٹھتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے محفل کے پس منظر میں محبوب کی بے رخی اور رقیب کی بے پناہ رعایت کا بڑا پردرد اور کاٹ دار نقشہ کھینچا ہے۔ عاشق گلہ کرتا ہے کہ محبوب کو رقیب کی ناراضگی کا اتنا پاس و لحاظ ہے کہ وہ مجھ سے تو دور رہتا ہی ہے، مگر میرے ساتھ بیٹھے شخص کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ یہ بظاہر ایک سادہ سا منظر ہے مگر اس کے پیچھے عاشق کے دل کی گہری تلخی، محرومی اور تنہائی چھپی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
