دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔ انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

“Grant not, O Lord, love for this base world unto Zafar; it casts man far away from religion and faith.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اے خدا، ظفر کو اس حقیر دنیا کی محبت نہ دینا، کیونکہ یہ انسان کو ایمان اور دین سے دور پھینک دیتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں بہادر شاہ ظفرؔ اپنے رب کے حضور نہایت عاجزی سے التجا کرتے ہیں کہ ان کے دل کو اس فانی اور بے ثبات دنیا کی محبت سے محفوظ رکھے۔ وہ اس دنیا کو 'دنیائے دوں' یعنی کمینی اور دھوکے باز قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کی ظاہری چمک دمک انسان کو غفلت میں ڈال کر اس کے ایمان اور روحانیت سے بہت دور پھینک دیتی ہے۔ سلطنت اور زوال کے تلخ تجربات سے گزر کر ظفرؔ ہمیں یہ راز سمجھاتے ہیں کہ مادی دنیا کا لالچ انسان کے باطنی سکون اور اخلاقی جوہر کو تباہ کر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.