غزل

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 9 shers· radif: कह नहीं सकते

اس غزل میں شاعر اپنے رنج و الم کا اظہار تو کرتا ہے مگر غم کے اصل سبب اور محبوب سے جڑے رازوں کو ظاہر کرنے سے قاصر ہے۔ اس میں عشق کے ناقابلِ بیان اسرار، محبوب کی پراسرار کشش اور عاشق کی دلی بے بسی کی پُراثر تصویر کشی کی گئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हम ये तो नहीं कहते कि ग़म कह नहीं सकते पर जो सबब-ए-ग़म है वो हम कह नहीं सकते
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے
2
हम देखते हैं तुम में ख़ुदा जाने बुतो क्या इस भेद को अल्लाह की क़सम कह नहीं सकते
ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا اس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے
3
रुस्वा-ए-जहाँ करता है रो रो के हमें तू हम तुझे कुछ ऐ दीदा-ए-नम कह नहीं सकते
رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو ہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے
4
क्या पूछता है हम से तू ऐ शोख़ सितमगर जो तू ने किए हम पे सितम कह नहीं सकते
کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے
5
है सब्र जिन्हें तल्ख़-कलामी को तुम्हारी शर्बत ही बताते हैं सम कह नहीं सकते
ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری شربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے
6
जब कहते हैं कुछ बात रुकावट की तिरे हम रुक जाता है ये सीने में दम कह नहीं सकते
جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم رک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے
7
अल्लाह रे तिरा रो'ब कि अहवाल-ए-दिल अपना दे देते हैं हम कर के रक़म कह नहीं सकते
اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا دے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے
8
तूबा-ए-बहिश्ती है तुम्हारा क़द-ए-रा'ना हम क्यूँकर कहें सर्व-ए-इरम कह नहीं सकते
طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا ہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے
9
जो हम पे शब-ए-हिज्र में उस माह-ए-लक़ा के गुज़रे हैं 'ज़फ़र' रंज ओ अलम कह नहीं सकते
جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے گزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے | Sukhan AI