“Why do you ask of us, O playful tormentor? The cruelties you have inflicted upon us cannot be told.”
اے شوخ ستم گر، تو ہم سے کیا پوچھتا ہے؟ تو نے ہم پر جو ستم ڈھائے ہیں، ہم انہیں بیان نہیں کر سکتے۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کو محبت اور شکوے کے دلکش امتزاج کے ساتھ 'شوخ ستم گر' کہہ کر پکارتا ہے، یعنی وہ جو معصومانہ بے نیازی اور شرارت میں دل توڑ دیتا ہے۔ عاشق کا دکھ اتنا گہرا اور وسیع ہے کہ وہ زبان پر لایا ہی نہیں جا سکتا، گویا لفظ زخموں کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ یہ ایسی خاموش اور بے بس محبت کی تصویر ہے جہاں ستم کا شکوہ بھی ہے، مگر محبوب کی دلربائی کے آگے سر تسلیمِ خم بھی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
