“Those who bear with patience the bitterness of your speech / Call it sweet nectar—they cannot bring themselves to call it poison.”
جن لوگوں میں آپ کی کڑوی باتوں کو برداشت کرنے کا صبر ہے، وہ اسے شربت ہی کہتے ہیں اور زہر نہیں کہہ سکتے۔
یہ شعر سچی محبت کے اس کمال اور صبر کی عکاسی کرتا ہے جہاں محبوب کی تلخ ترین باتیں بھی عاشق کے لیے زہر نہیں رہتیں۔ وہ ان کڑوے اور چبھتے ہوئے جملوں کو بھی ہنس کر شربت قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کی وفا میں شکوے اور گلے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ محبوب کی ہر ادا اور ستم کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی خوبصورت انتہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
