“Whenever I try to speak of your hesitation, the breath halts within my chest—I cannot speak.”
جب بھی ہم آپ کی کسی رکاوٹ کی بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے سینے میں دم رک جاتا ہے اور ہم کچھ کہہ نہیں پاتے۔
شاعر نے اس شعر میں 'رکاوٹ' کے لفظ کے ساتھ ایک لطیف ربط پیدا کیا ہے، جہاں محبوب کی جھجھک عاشق کے دم رکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ عاشق جب بھی اس دوری یا تذبذب کا شکوہ کرنے لگتا ہے، تو دل پر رنج اور چاہت کی ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ سانس سینے میں ہی گھٹ جاتی ہے۔ یہ شعر اس خاموش بے بسی کی عکاسی کرتا ہے جہاں گلہ زباں پر آنے سے پہلے ہی بے دم ہو کر رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
