“You bring us disgrace before the whole world by weeping incessantly; yet, O tearful eyes, we cannot bring ourselves to reproach you.”
اے نمناک آنکھ، تو رو رو کر ہمیں ساری دنیا میں رسوا کر رہی ہے، لیکن ہم تجھ سے کچھ کہہ نہیں سکتے۔
اس شعر میں شاعر اپنی نم دیدہ آنکھوں سے ایک نہایت پیارا اور بے بس سا شکوہ کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہارے مسلسل بہتے آنسوؤں نے میرے راز فاش کر کے مجھے دنیا میں رسوا تو کر دیا ہے، لیکن میں پھر بھی تم پر خفا نہیں ہو سکتا۔ اس میں یہ گہرا احساس چھپا ہے کہ آنکھیں دراصل دل کی بے قراری کا ہی تو ترجمان ہیں، بھلا کوئی اپنے ہی بے بس غم کو کیسے ملامت کرے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
