“Your graceful stature is the celestial Tuba of Paradise; how could we call it the cypress of Iram? We simply cannot say so.”
آپ کا خوبصورت قد جنت کے درختِ طوبیٰ جیسا ہے؛ ہم بھلا اسے باغِ ارم کا سرو کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ہم ہرگز ایسا نہیں کہہ سکتے۔
شاعر اپنے محبوب کے دلکش اور سرو قامت حسن کی تعریف انتہائی والہانہ انداز میں کر رہا ہے۔ عام طور پر شاعری میں حسین قد کو باغِ ارم کے سرو سے تشبیہ دی جاتی ہے، لیکن شاعر اسے ناکافی سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ اس کی نظر میں محبوب کی نزاکت اور رعنائی کسی دنیاوی باغ کی نہیں بلکہ جنت کے پاکیزہ درخت ’طوبیٰ‘ کی مانند ہے، جس کا کوئی زمینی ثانی نہیں ہو سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
