“We do not say we cannot voice our pain; yet the true cause of our grief, we cannot name.”
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ اپنا دکھ بیان نہیں کر سکتے، مگر جس وجہ سے یہ دکھ ہے وہ وجہ ہم بتا نہیں سکتے۔
یہ شعر دل کی اس پُروقار کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان اپنے دکھ درد کا اظہار تو کر سکتا ہے، مگر اس کی اصل وجہ بتانے سے قاصر رہتا ہے۔ غم کا رونا رونا آسان ہے، لیکن سبب بتانے کا مطلب محبوب کو رسوا کرنا یا عشق کے کسی نازک راز کو افشا کرنا ہے۔ عاشق اپنے آنسوؤں کا اعتراف تو کر لیتا ہے، مگر وفا کی لاج رکھنے کے لیے زخم لگانے والے کے نام پر ہمیشہ خاموشی کی چادر اوڑھے رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
