Sukhan AI
غزل

کچھ تو ہے کہ جس سے دریا کا اونچا نیچا ہوتا ہے

کچھ تو ہے کہ جس سے دریا کا اونچا نیچا ہوتا ہے
امرت گھائل· Ghazal· 9 shers

یہ غزل قدرت کی حیرت انگیز اور گہرے رازوں پر روشنی ڈالتی ہے، خاص طور پر سمندر کے مانگنے اور واپس جانے کے عمل کو بطور مرکزی استعارہ استعمال کرتی ہے۔ شاعر وجود کی اس فطری تال میں ایک گہرا وجودی معنی تلاش کرتا ہے، جو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور مسلسل تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کے عروج و زوال سے تشبیہ دیتی ہے، جہاں ہر گراوٹ کے بعد ایک نئی بلندی آتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કંઈ તો છે કે જેથી ઊંચોનીચો થાય છે દરિયો; મને તો આપણી જેમ દુઃખી દેખાય છે દરિયો.
کچھ تو ہے جس سے اونچا نیچا ہوتا ہے دریا؛مجھے تو اپنی طرح ہی دکھی دکھتا ہے دریا۔
شاعر کہتا ہے کہ کچھ تو وجہ ہے جس سے سمندر اونچا نیچا ہوتا ہے؛ اسے تو سمندر بھی اپنی ہی طرح دکھی دکھائی دیتا ہے۔
2
દિવસ આખો દિવસના તાપમાં શેકાય છે દરિયો; અને રાતે અજંપો જોઈને અકળાય છે દરિયો.
دن بھر دن کی تپش میں جلتا ہے دریا؛اور رات بے چینی دیکھ کر بے کل ہوتا ہے دریا۔
دن بھر دریا دن کی تپش میں جلتا ہے۔ اور رات کو بے چینی دیکھ کر دریا بے کل ہو جاتا ہے۔
3
કહે છે કોણ કે ક્યારેય છલકાય છે દરિયો? લથડિયાં ચાંદનીમાં રાત આખી ખાય છે દરિયો!
کون کہتا ہے کہ کبھی چھلکتا نہیں دریا؟لڑکھڑیاں چاندنی میں رات بھر کھاتا ہے دریا!
کون کہتا ہے کہ دریا کبھی نہیں چھلکتا؟ دریا چاندنی میں ساری رات لڑکھڑاتا رہتا ہے۔
4
ખબર સુધ્ધાં નથી એને, ભીતર શી આગ સળગે છે! નીતરતી ચાંદનીમાં બેફિકર થઈ, ન્હાય છે દરિયો.
اُسے خبر تک نہیں، بھیتر کیسی آگ سلگتی ہے! نترتی چاندنی میں بے فِکر ہو، نہاتا ہے دریا۔
یہ شعر بیان کرتا ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں کہ اس کے اندر کیسی آگ سلگ رہی ہے۔ باہر سے وہ لاپرواہ اور پرسکون ہے، جیسے دریا چاندنی میں نہا رہا ہو۔
5
પ્રભુ જાણે, ગયો છે ચાંદનીમાં એવું શું ભાળી! કે એના દ્વારની સામે ઊભો સુકાય છે દરિયો!
خدا جانے، چاندنی میں وہ کیا دیکھ آیا ہے!کہ اس کے در پر، دریا کھڑا سوکھا جا رہا ہے!
خدا جانے، چاندنی میں اس نے ایسا کیا دیکھا ہے کہ اس کے در پر دریا کھڑا سوکھ رہا ہے۔
6
જીવન, સાચું પૂછો તો એમનું કીકીના જેવું છે, કદી ફેલાય છે ક્યારેક સંકોચાય છે દરિયો!
جیون، سچ پوچھو تو ان کا پتلی جیسا ہے کبھی پھیلتا ہے کبھی سکڑتا ہے دریا!
جیون ان کی آنکھ کی پتلی جیسا ہے، جو کبھی پھیلتی ہے تو کبھی سکڑتی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے سمندر کبھی پھیلتا ہے اور کبھی سکڑتا ہے۔ یہ جیون کی بدلتی فطرت کو دکھاتا ہے۔
7
ઠરીને ઠામ થાવા છે જાણે કે ઠેકાણું, કે જેનીતેની આંખોમાં જઈ, ડોકાય છે દરિયો!
ٹھہر کر ٹھکانہ پانے کو، وہی ہے گویا ٹھکانہ،کہ جس کی-تس کی آنکھوں میں جا، جھانکتا ہے دریا!
ٹھہر کر ٹھکانہ پانے کے لیے، گویا وہی ٹھکانہ ہے، جہاں دریا ہر کسی کی آنکھوں میں جا کر جھانکتا ہے۔
8
બડો ચબરાક છે, સંગ એમનો કરવો નથી સારો, નદી જેવી નદીને પણ ભગાડી જાય છે દરિયો!
بڑا چالاک ہے وہ، اس کی صحبت ٹھیک نہیں، ندی جیسی ندی کو بھی بھگا لے جاتا ہے دریا!
وہ بڑا چالاک ہے، اس کی صحبت ٹھیک نہیں ہے۔ دریا ندی جیسی ندی کو بھی بھگا لے جاتا ہے۔
9
ગમે ત્યારે જુઓઘાયલઘૂઘવતો હોય છે આમ , દિવસના શું? ઘડી રાતેય ના ઘોંટાય છે દરિયો!
جب بھی دیکھو 'گھایل' یوں ہی موجزن رہتا ہے،دن کی کیا؟ رات کو بھی پل بھر سمندر خاموش نہیں ہوتا!
'غائل' ہمیشہ بے چین اور مضطرب رہتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سمندر دن کی تو کیا رات میں بھی ایک لمحے کے لیے بھی خاموش نہیں ہوتا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

کچھ تو ہے کہ جس سے دریا کا اونچا نیچا ہوتا ہے | Sukhan AI