دن بھر دن کی تپش میں جلتا ہے دریا؛اور رات بے چینی دیکھ کر بے کل ہوتا ہے دریا۔
“The sea, all day, bakes in the heat of the day;And at night, seeing restlessness, the sea is in dismay.”
— امرت گھائل
معنی
دن بھر دریا دن کی تپش میں جلتا ہے۔ اور رات کو بے چینی دیکھ کر دریا بے کل ہو جاتا ہے۔
تشریح
شायर نے دریا کو انسان کے دل کی علامت بنا دیا ہے۔ دن کی تپش میں اس کا سکڑنا، اور رات کی بے چینی میں اس کا بے کل ہونا، یہ دل کی دوغلے پن کی عکاسی ہے۔
