غزل
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
یہ غزل فراق کی جان لیوا کیفیت اور شدید تنہائی کے کرب کو پیش کرتی ہے، جس میں محبوب کے بنا ایک ایک لمحہ پہاڑ بن چکا ہے۔ ویرانی اور ادھوری آرزوؤں کی تصویر کشی کے ذریعے شاعر نے غمِ ہجراں اور زندگی کی نا تمامی کا دردناک احساس اجاگر کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
घर है वहशत-ख़ेज़ और बस्ती उजाड़
हो गई एक इक घड़ी तुझ बिन पहाड़
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
ہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
گھر وحشت پیدا کر رہا ہے اور پوری بستی ویران ہو چکی ہے؛ تمہارے بغیر ایک ایک پل پہاڑ کی طرح بھاری اور کٹھن ہو گیا ہے۔
2
आज तक क़स्र-ए-अमल है ना-तमाम
बंध चुकी है बार-हा खुल खुल के पाड़
آج تک قصر امل ہے ناتمام
بندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ
آج تک عمل کا محل ادھورا ہی ہے، حالانکہ اس کی تعمیر کے لیے بار بار پاڑ باندھ کر کھولی جا چکی ہے۔
3
है पहुँचना अपना चोटी तक मुहाल
ऐ तलब निकला बहुत ऊँचा पहाड़
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
ہمارا چوٹی تک پہنچنا ناممکن ہے؛ اے طلب، یہ پہاڑ تو بہت اونچا نکلا۔
4
खेलना आता है हम को भी शिकार
पर नहीं ज़ाहिद कोई टट्टी की आड़
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ
5
दिल नहीं रौशन तो हैं किस काम के
सौ शबिस्ताँ में अगर रौशन हैं झाड़
دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کے
سو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ
6
ईद और नौरोज़ है सब दिल के साथ
दिल नहीं हाज़िर तो दुनिया है उजाड़
عید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
7
खेत रस्ते पर है और रह-रौ सवार
किश्त है सरसब्ज़ और नीची है बाड़
کھیت رستے پر ہے اور رہ رو سوار
کشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ
8
बात वाइ'ज़ की कोई पकड़ी गई
इन दिनों कम-तर है कुछ हम पर लताड़
بات واعظ کی کوئی پکڑی گئی
ان دنوں کم تر ہے کچھ ہم پر لتاڑ
9
तुम ने 'हाली' खोल कर नाहक़ ज़बाँ
कर लिया सारी ख़ुदाई से बिगाड़
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں
کر لیا ساری خدائی سے بگاڑ
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
