“If the heart is not illuminated, of what use are they, even if chandeliers blaze bright in a hundred night-chambers?”
اگر انسان کا دل ہی روشن نہ ہو، تو سو خواب گاہوں میں فانوسوں کے جلنے کا بھی کیا فائدہ ہے۔
شاعر نے اس شعر میں باطن کے اجالے اور ظاہر کی چمک دمک کا بڑا دلکش موازنہ پیش کیا ہے۔ اگر سینکڑوں خواب گاہیں خوبصورت جھاڑ فانوسوں سے جگمگا بھی رہی ہوں، مگر انسان کا اپنا دل تاریک اور بے نور رہے، تو یہ ساری چکاچوند بے معنی ہے۔ اصل خوشی، رونق اور سکون دل کے زندہ ہونے سے ہے؛ باہر کے چراغ اندر کی ویرانی کو کبھی دور نہیں کر سکتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
