آج تک قصر امل ہے ناتمام بندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ

“To this day the palace of deeds remains incomplete, though time and again the scaffolding has been raised and torn down.”

— الطاف حسین حالی
معنی

آج تک عمل کا محل ادھورا ہی ہے، حالانکہ اس کی تعمیر کے لیے بار بار پاڑ باندھ کر کھولی جا چکی ہے۔

تشریح

شاعر نے اِس شعر میں انسانی آرزوؤں اور کوششوں کو ایک ایسے محل سے تشبیہ دی ہے جو بنتے بنتے بھی کبھی پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ عمارت کھڑی کرنے کے لیے بار بار پاڑ باندھی جاتی ہے اور کھلتی رہتی ہے، مگر خواہشوں کا یہ قصر جوں کا توں ادھورا رہتا ہے۔ یہ شعر انسان کی مسلسل تگ و دو، ناپائیدار اُمیدوں اور زندگی کی ناتمامی کا ایک درد مندانہ اور خوبصورت نقشہ کھینچتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.