“Some slip of the preacher must have been caught out; / These days, far fewer rebukes on us are cast about.”
ایسا لگتا ہے کہ واعظ کی کوئی غلطی یا راز پکڑا گیا ہے، کیونکہ ان دنوں ہم پر اس کی ڈانٹ ڈپٹ اور لعن طعن کچھ کم ہو گئی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے واعظ کی پارسائی پر نہایت شوخ اور دلکش انداز میں طنز کیا ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ آج کل ہم رندوں پر لعن طعن اور ملامت کا زور کچھ کم ہے، لگتا ہے خود حضرت کی ہی کوئی چوری یا کچی بات پکڑی گئی ہے۔ یہ شعر ظاہر داری اور دوسروں کو گناہ گار سمجھنے والوں کی منافقت کو کمال بے ساختگی کے ساتھ عیاں کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
