غزل

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 8 shers· radif: होता

یہ غزل عشق کے الم اور دل کی بے بسی کی عکاس ہے، جس میں تمام تر رنج و مصائب کا ذمہ دار دل ہی کو ٹھہرایا گیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اگر دل محبوب اور زمانے کی بے وفائی و دو رخی سے باخبر ہوتا تو اسے کبھی ملال نہ ہوتا، اور دل کے وجود کے بغیر انسان رنج و غم سے آزاد ہو کر پرسکون زندگی بسر کرتا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अगर दिल वाक़िफ़-ए-नैरंगी-ए-तब-ए-सनम होता ज़माने की दो-रंगी का उसे हरगिज़ न ग़म होता
اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا زمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ غم ہوتا
اگر دل محبوب کے بدلتے ہوئے مزاج اور بے وفائی سے واقف ہوتا، تو اسے زمانے کی دو رخی کا کبھی کوئی رنج نہ ہوتا۔
2
ये पाबंद-ए-मुसीबत दिल के हाथों हम तो रहते हैं नहीं तो चैन से कटती न दिल होता न ग़म होता
یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیں نہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا
ہم اس دل کے سبب ہی مصیبتوں کے پابند رہتے ہیں، ورنہ اگر دل ہی نہ ہوتا تو کوئی غم بھی نہ ہوتا اور زندگی آرام و سکون سے گزرتی۔
3
उन्हीं की बे-वफ़ाई का ये है आठों-पहर सदमा वही होते जो क़ाबू में तो फिर काहे को ग़म होता
انہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہ وہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا
مجھے دن رات ان ہی کی بے وفائی کا صدمہ رہتا ہے؛ اگر وہ میرے قابو میں ہوتے تو مجھے کوئی غم کیوں ہوتا؟
4
लब-ओ-चश्म-ए-सनम गर देखने पाते कहीं शाइ'र कोई शीरीं-सुख़न होता कोई जादू-रक़म होता
لب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعر کوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا
اگر شعرا کہیں محبوب کے لب اور آنکھیں دیکھ پاتے، تو کوئی شیریں گفتار بن جاتا اور کوئی جادوئی انداز میں لکھنے والا ہو جاتا۔
5
बहुत अच्छा हुआ आए न वो मेरी अयादत को जो वो आते तो ग़ैर आते जो ग़ैर आते तो ग़म होता
بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کو جو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا
بہت اچھا ہوا کہ وہ میری عیادت کے لیے نہیں آئے، کیونکہ اگر وہ آتے تو ان کے ساتھ غیر بھی آتے اور غیروں کے آنے سے مجھے دکھ ہوتا۔
6
अगर क़ब्रें नज़र आतीं न दारा-ओ-सिकन्दर की मुझे भी इश्तियाक़-ए-दौलत-ओ-जाह-ओ-हशम होता
اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کی مجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا
اگر میں دارا اور سکندر جیسے عظیم بادشاہوں کی قبریں نہ دیکھتا، تو مجھے بھی دولت، مرتبے اور جاہ و حشم کی خواہش ہوتی۔
7
लिए जाता है जोश-ए-शौक़ हम को राह-ए-उल्फ़त में नहीं तो ज़ोफ़ से दुश्वार चलना दो-क़दम होता
لئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میں نہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا
محبت کے راستے پر ہمیں صرف شوق کا جوش آگے لیے جا رہا ہے، ورنہ کمزوری کی وجہ سے دو قدم چلنا بھی مشکل ہوتا۔
8
न रहने पाए दीवारों में रौज़न शुक्र है वर्ना तुम्हें तो दिल-लगी होती ग़रीबों पर सितम होता
نہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہ تمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا
شکر ہے کہ دیواروں میں کوئی سوراخ باقی نہ رہا، ورنہ آپ کے لیے تو یہ محض دل لگی ہوتی مگر غریبوں پر سراسر ظلم ہوتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا | Sukhan AI