“Had the heart known the beloved's ever-shifting, fickle art, the world's double-dealing would never have grieved the heart.”
اگر دل محبوب کے بدلتے ہوئے مزاج اور بے وفائی سے واقف ہوتا، تو اسے زمانے کی دو رخی کا کبھی کوئی رنج نہ ہوتا۔
شاعر نے یہاں محبوب کے بدلتے تیور یعنی نیرنگی اور دنیا کی منافقت یعنی دو رنگی کے درمیان بڑا دلکش موازنہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر دل پہلے ہی صنم کی رنگ بدلتی شوخ طبیعت سے آشنا ہوتا، تو زمانے کے فریب اور دہرے رویے کا اسے ہرگز ملال نہ ہوتا۔ عشق کے دیے ہوئے زخم انسان کو اتنا پختہ کر دیتے ہیں کہ پھر دنیا کی کوئی بھی بے وفائی اسے حیران یا اداس نہیں کر پاتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
